اشک تو آنکھوں میں لبالب ہیں! گر اچھل گیۓ ، تو کہاں بہاؤنگا میں؟
نظریں جھکايۓکیا کچھ نہیں سہا۔ اب تو لفظوں سے تیر چلاؤنگا میں ۔
میرا
سوانح حیات
سوانح حیات
نور محمّد غزنوی
دیباجہ
کیئ دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ اپنے ایک
مختصر سوانح حیات لکھ دوں مگر پھر ارادہ
ملتوی کرتا ہوں کہ سوانح حیات توان لوگوں کا لکھا جاتا ہے جو دنیا میں کوئ نام کیا ہو ، کوئ بڑی بڑے
کارائ نمایاں انجام دیا ہو ، یا ان لوگوں کا لکھا جاتا ہے جس کے زندگی کا سر گزشت
دوسروں کے لۓ باعث عبرت ہو ، یا سیاسی لیڈ روں کا لکھا جاتا ہےاور کوئ ایسا شخص
اپنے سوانح حیات لکھتا ہےجو اپنے اولاد وں کے لۓ بے انتہا دولت چھپو دیا ہو ، اولاد
وں کو ترقّی کے اونچے منزلوں تک پہنچا دیا گیا ہو- میں تو یہ سب میں کوئ ایک صیفت
بھی نہیں رکھتا ہوں- میرے سوانح حیات کو کوئ دلچسپی سے کیوں پڑھینگے؟ میرے سوانح
حیات سے کسی کو کیا فائدا ہوگا؟
معاف کیجۓ میرا مطلب عوام سے نہیں ہے
، اپنے فملی سے ، اپنے خاندان کے افراد سےہے۔ عوام کا تو یہاں سوال ہی پیدا نہیں
ہوتا کيوں کہ میں پہلے عرض کر چکا کہ میں نہ کوئ لیڈ ر ہوں، نہ کوئ بڑی ہشتی ہوں ۔
اگر دل میں کبھی سوانح حیات لکھنےکا خواہش پیدا ہوا ہے تو صرف اپنے خاندان کے ليۓ
۔ پہلے عرض کر چکا کہ اس ميں بھی جھجھکتا رہا ہوں کہ میرے
خاندان کے افراد بھی میرے سوانح حیات
سے دلچسپی رکھتے ہو نگے؟
چاہے جو کچھ بھی ہو آج ميں ارادہ کرے
لیا کہ ميں اپنے سوانح حیات بلکل سچّائی سے لکھونگاچاہے اس میں کويئ دلچسپی لے یا
نہ لے۔
سوانح حیات لکھنے کا اصل متحرک اور الباب
سوانح حیات لکھنے ميں جو ميرا ارادہ
کو مضبو کرديا وہ ایک تو یہ ہے کہ ميں اندازہ کرتا ہوں کہ میرا مجلا بیٹا محمّد
کمال میرے زندگی کے واقعات سے کچھ دلچسپی رکھتا ہے کیوں کہ انکے
قاغزات سے پتہ لگتا ہے کہ وہ میرے بارے میں کچھ کچھ لکھنا چاہتا ہے مگر ادھورا رہ
جاتا ہے۔
2۔ دوسرا سبب میری بیٹی بلقس کا وہ خط
ہے جو آج مجھے ملامگر آخر میں مجھے غلط سمجھنے لگی۔
4۔ چوتھا سبب میرا داماد ہے جسکو میں
دوسرے اولادوں سے کم نہیں سمجھا مگر وہ بھی مجھے غلط سمجھا۔
5۔پانچوا سبب اقبال ہے جسکو ایک گھنٹا
اپنے سے دور نہیں رکھ سکتا اور بے حساب نقصانات سے بھی اسے نظر اند از کیا تاکہ
اسکے دل میں چوٹ نہ ہو مگر وہ بھی مجھے نہ پڑھ سکا نہ میرے ضمیر کے زبان کو سمجھ
سکا۔
6۔چھٹّا سبب طاھرا، شیر خان، ظاھر خان
ہيں میرا دل کہتا ہے کہ شاید وہ لوگ میرے اس سوانح حیات کو دلچسپی سے پڑھینگے اور
آنسو بھی بہايئنگے کیوں کہ اسوقت میں اس دنیا میں نہیں رہونگا۔
باب اوّل
میں نے پہلے عرض کردیا کہ اپنے اس
سوانح حیات میں مبالغہ اور جھوٹ کو دخل نہیں دونگا ان جان بوجھ کر غلطی سے اگراں
ہوا تو معافی چاہتا ہوں۔
میرا وطن افغانستان ہے غزنی کے قریب
ایک مشہور روبا رونک گاؤں جسکو تاسنگ
کہتے ہیں۔ تاسنگ بالا میں مرا آبائ گھرہے اور ہمارے خاندان کے افراد بہت ہیں۔ ہملوگ کچھ
زیادہ امیر نہیں البتہ باپ کے زندگی میں ہمارا گھر بہت ہی خوشحال گھر تھا دو عدد
چھوٹا چھوٹا باغیچہ ہےجسمیں توت زردالو وغیرہ ہےچہاروں طرف دو قد آدم دیوار ہے
کاریز کاہمارے گھر سے پھر باغ میں نکلتا ہے ۔ تاسنگ کے کاریز میں
تھوڑا پانی ہے۔ والد صاحب کے زندگی میں کوئ چیز کا کمی نہیں تھا کچھ اپنے املاک
کچھ گاؤں میں ایک دوکان سے کچھ کلکتّہ کے کاروبار ہے۔ ہمارے گھر بہت خوشحال گھر
تھا اگرچہ میرا چچا نے باغوں کا تقسیم اسطرح اپنے مرضی سے کیا کہ تین حصّہ اپنا
لیا اور ایک حصّہ ہمارے لیۓ چھوڑا پھر بھيی میرا والد محترم نے اعتراض نہیں کیا
کیوں کہ والد صاحب صرف گھر میں سکون
خوشی کے خواہش مند تھے۔
میں اور میرا چھوٹا بھايئ جان محمّد دو پھول کے
طرح، دو ساتھیی کے طرح ،خوش خرم باغیچوں میں ،پہاڑوں کے دامن میں، گاؤں کے پر سکون
گليوں میں،گھر کے خوشحال ماحول میں کھیلتے کودتے زندگی کے منزلیں طے کرتے گيۓ گھر
میں کویئ چیز کے کمی نہيں تھا پھل، دودھ، گھی، اچھّے غدا، اچھّے کپڑے سب سے بڑھکر
ماں باپ کا پیار کے علاوہ دوست برادر یہاں تک کہ گاؤں والوں کا پیاربھی ہمیں ملا
تھا۔
چچا دو چچياں چچيرے بہنیں سب ہمیں
پیار کے نظروں سے دیکھتے تھے اگر چہ والد صاحب کے انتقال کے بعد مجھ پر دو دفعہ
قاتلانہ حملہ ہوا ، لوگوں کا شک تھا کہ یہ میرا چچا ہو سکتا ہے مگر مجھے يقين نہیں
آتا کیونکہ وہ بھی مجھے پیار کرتے تھے اگرچہ ہم الگ تھے ، دونوں بھايّوں میں کچھ
نفرت تھا مگر میں نے بہ جاہر انکا کویئ بد سلوکی نہیں دیکھا خیر یہ تو بعد میں آیّگا۔
ایک دن اچانک خبر ملا کہ چچا کا
انتقال ہوا پیٹ کا درد سے یعنی باد قوبج سے ، حقیقت مجھے بہت بڑا صدمہ ہوا مگر بچپنہ تھا تھوڑے دنوں میں بھول کیا مگر اس
واقعہ کو، اس دردناک وقت کو کبھی نہیں بھول سکتا ہوں جس وقت دست میرے عزیز بھائی،
میرے زندگی کے سفر کے ساتھی، میرے ساتھ کھیلنے کودنے والے ساتھی کو مجھسے چھین لیا
معمولی سا کھانسی اور پیٹ کا درد نے میرا بھایئ کو مجھسے جدا کردیا قدرت نے مجھے
تن تنہا کردیا۔
جہاں جہاں ہم کھیلتے تھے وہاں وہاں
جاکر چپ چاپ بیٹھ کر گھنٹوں سوچتا تھا اور بھایئ کے خوبصورت مسکراتا ہوا چہرہ
نظروں پردہ ہمیں کے طرح گزرتا تھا۔
مجھے محسوس ہونے لگا جیسے دنیا میں میں اکیلا ہوگیا ماں کے آنسو ،والد صاحب کا غمگین چہرا مجھ سے
نہیں دیکھا جاتا تھا اگرچہ والد صاحب مجھ سے زیادہ پیار سے باتیں کرنے لگے مگر
انکا بناوٹی مسکراہٹ انکے دل زخم کو مجھسے چھپا نہیں سکتا تھا ، انکے گرتے ہویۓ
صحت اور مغموم آنکھوں سے میں بہت پریشان
ہونے لگا ہمارے ی کیلۓ مصنوعی مسکراہٹ اور خوشی مجھے نہیں بھلوا سکتا تھا۔
وفات
9 - 5 - 76
باب دویوم
الغرض والد صاحب کے آنکھوں کی چمک
کمنے لگی اور دل کے دھڑکن میں تیزی چہرا مین اداسی مجھے بیتاب کرتا رہا اگرچہ والد
صاحب کو بھی یہ محسوس ہو رہا تھا اسلیۓ وہ مصنوعی خوشی کا اظہارکر رہے تھےاصلی
خوشی اور مصنوعی خوشی کا فرق میں بخوبی کر پاتاتھا۔
کچھ دنوں بعد والد صاحب ہندوستان کے
طرف روانہ ہویۓاسوقت میں فارسی کا پہلا کتاب دینی پانچ کتاب پڑھ رہا تھا غمکن آواز
، ٹوٹا ہوا مغموم چہرہ کے ساتھ مجھے ایک مولوی صاحب کے سپرد کیا اور خود خون کے
آنسو لیۓ ہندوستان کی طرف روانہ ہويۓ۔
مولوی صاحب نہایت پاکیزہ اور اچھّے
انسان تھے اور علی خاندان یعنی سیّد خاندان کے تھے۔تھوڑے ہی دنوں میں میرے دل میں
فارسی اور مزہبی علوم کا شوق اتنا بڑھ گیا کہ میں کتابوں مگن اور دری من مکن
رہا اورنازک دل غمون کچھ ہلکا ہوتے گیا
علم کا نشہ نے آہستہ آہستہ بھايئ کا غم دل سے کم کرتے گیا اگرچہ کبھی کبھی کتاب کے
اورا ق میں بھی انکا خوبصورت مسکراتا ہوا چہرانظر آتا تھا ، والد صاحب کا ہنستا
ہوا اور پھرغمگین چہرا حروف میں کبھی کبھی ابھرنے لگا۔علم کا شوق بڑھتے گیا بھايئ
کا جکہ آہستہ آہستہ علم نے لینا شروع کر دیا یکی بعد فارسی کےتعدد کتابوں کو پڑھ چکا عربی کو شروع کیا علم فقہ میں
کافی کتابیں پڑھ چکا تحصیل علم کیليۓ گاؤں سے باہر اچھّے عالموں کے پاس چلا گیا
ایک طالب علم کے طرح جہاں جہاں اچھّا ترکی اور عالم ملاچلا گیا ، گھر سے آہستہ آہستہ بیگانہ ہوتے گیا اور جب کبھی گاؤں آتا تو
گاؤں اپنی گلیوں میں پہاڑوں کے دامن میں باغیچوں میں گھر کے ماحول بھايئ اور والد
صاحب کا غمگین چہرہ ماں کے آنسو بھری آنکھیں پرانے باتوں کو یاد دلاتے،چچیری بہنیں
جنہیں اپنے بہن سے بھی عزیز رکھتا تھا سمجھاتے ، تسلّی د يتی ، آنسو پوچھتے۔کچھ
دنو بعد نکل جاتااور علم میں ڈوب جاتا اور ایک سکون محسوس کرتا ، اچھّے اچھّے عالم
، صوفی ، بزرگان دین کے مجلسوں میں بیٹھ کر خدا کا یاد دل میں سکون پہنچاتا تھا ،
بزرگان دین کا محفل دل روحانی سکون دیتا تھا ، خدا کو سچّے دل سے اپنا مددگار اور
غمگسار سمجھنے لگا ۔ جب گاؤں کو آتا تب بھی سرماتے جھجھکتے چپکے سے بزرگان دین کے
محفلوں میں بیٹھتا اور سنتا رکے یہ ہی میرا معمول بن گیا اور روحانی پاکزہ گی
بڑھتے گیا علماء کرام کے نظرون میں میرا عزّت بڑھتے گیا اور عالم جسکے لیۓ میں علم
کے تحصل کے لیۓ جایا کرتاتھا محبت اور شفقت کے نظروں سے دیکھنے لگا۔
میرا ایک اساد محترم کہا کرتا تھا کہ
تم خت لکھنا مت سیکھو کیوں کہ مجھے خوف ہے کہ تم علم دین کو چھوڑ کہیں جدید علم کو
اپناؤگے اور کوئ مرزا یا آفسر بنوگے کیوں کہ تمہارا شکل صورت اس بات کا گواہی دیتا
ہے ، اس لیۓ آج بھی میرا اسم الخط خراب ہے۔
باب سیوم
اس سوانح حیات کو لکھنے کے وقت اختصار
کا بھی خیال رکھونگا صرف احم واقعات قلمبند کرونگا تاکہ کسی کے دماغ میں زیادہ
بوجھ نہ ہو۔
فقہ شریف عربی زبان میں سرح لیاس
کوختم کرنے کے بعد بڑے خوشی سے گھر آیا سب کو خوش خبری سنایا کہ میں نےشرح لیاس
ختم کردیا اسکے پہلے والد صاحب کو بھی ایک خط لکھ چکا تھا کہ میں شرح لیاس پڑھ رہا
ہوں ،اسکے جواب میں انکا ایک خط آیا کہ مجھے یقین نہیں ہوتا شاید میرے تسلّی کیلیۓ
ایسا خط لکھ رہے ہو۔ گھر آکر پھر لکھ چکا کہ والد محترم میں نے آپکے ردعا شرح لیاس
ختم کر دیا اور یہ حقیقت غلط لہیں آپکے آنے پر آپکو یقین ہو جایئگا آپکا یقین نہ
ہونے کا معقول وجہ بھی ہے کیوںکہ آپکے رہتے وقت میں بہت غبی تھا مگر خدا کے فضل سے
ایک بہ ایک دماغ کھل گیا اور بہت کم مدّت میں میں فارسی کے علاوہ کیئ معتبر عربی
کتابیں بھی پڑھ چکا خط لکھنے کے بعد تھوڑے دیر گھر میں گھر کے ماحول میں کھو گیا
اور پھر دوست احباب بھایئ برادر ملنے چلے آيۓ اور دل بہلنے لگا ۔
دوسرے صبح مسجد کے طرف جانےلگا مسجد
کے سامنے لوگ بیٹھکر گپ کر رہے تھے ،اچانک میرے کان میں آواز آیا میرے والد صاحب
کا نام لیکر کويئ کہ رہا تھا بیچارا سید محمّد
ہندوستان میں انتقال کر گیا ، اگر بچے گھرکے افراد سن لينگے بہت دکھی ہونگے میں نے
قریب جاکر پوچھا کہ کسنے کہا اور کب آپلوگوں نے سنا ؟ لوگ خاموش ہوگیۓ اور کہتے
ہیں تم نے غلط سنا ہے ، تمہارے والد صاحب کا بات نہیں دوسرے شخص کا بات ہے۔ میں
سمجھ گیا کہ لوگ میرے تسلّی کیلیۓ یہ بات کہ رہے ہیں، مجھے یقین ہوگیا کہ قدرت نے
میرے تھوڑے دیر کے خوشی کو بھی پسند نہیں کیا بھایئ کا غم ابھی پورا دل سے مٹا بھی
نہیں جو میرا سب سے بڑا خوشی سب سے بڑا سہارا جو خدا کے بعد تھا سب سے زیادہ محب
اور غمگسار کو بھی مجھسے چھین لیا میں گھر آیا غم روا اداس اور نا امیدی کے آنسو
لیۓ ہويۓ چپ چاپ سوگیا۔میں نے کسی اور کو بھی یہ واقعہ نہیں سنایا کیوں کہ اس غم
میں فی الحال کسی اور کو شریک کرنا نہیں چاہتا۔
باب چہارم
عزم ہندوستان
والد صاحب کے انتقال کا خبر سن کر
میرے دل میں جو حالت گزرا اور میرے دماغ
میں جواثر ہوا اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کتنےدفعہ نیند میں چیخ
اٹھا کتنےدفعہ نیند میں رونے لگا اور کتنےدفعہ بے خیالی میں سونے کا کمرا چھوڑ کر
دوسرے دوسرے جگہ سونے لگا ایک دفعہ تو بے خیالی میں چھت سے اترتے وقت سیڑيوں کو
چھوڑ کر دوسرے جگہ قدم رکھنے ہی والا تھا کہ خیال آیا یہاں سیڑیاں نہیں ہے اور ایک
قدم آگے بڑھنے پر چھت سے زمین پر آ گیا ہوتا اور آج یہ سطور لکھنے کیلیۓ زندہ نہ
ہوتا۔ پڑھنے والے بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ مجھ پر کیا گزرتا ہوگا۔
ایک دن باغ کے صحضہ میں صبح کی نماز
ادا کرکے بہتے ہويۓ پانی کے کنارہ بیٹھ کر خیالات کو بھی پانی کے بہاؤ میں چھوڑ
دیا میوہ کے وقت ،جیسے جیسے صبح کے روشنی ظلمت شب کو مٹاتے چلا ویسے ویسے چڑیوں کے
آواز تیز ہوگیۓ میرے خیالات میں بھی تیزی آنے لگا ماضی اور مستقبل تیزی سےدماغ میں
گردش کرنے لگا اور ایک بہ ایک دماغ نے فیصلہ دیا کہ ہندوستان جاؤنگا اور والد صاحب
کے انتقال کا خود تصدیق کرونگا یا ازکم انکے قبر کا طواف توکرونگا۔ مگر کیسے
جاؤنگا؟ کس طرح جاؤنگا؟ روپیہ کہاں سے لاؤنگا؟ گھر سے تو اس خیال سے روپیہ نہیں
مانگ سکتا ، ہندوستان کے طرف کويئ نہیں چھوڑینگے۔ میرے نگاہیں ایک طرف پڑے ایک
دیوصعل کے طرف گیئں اور ایک بہت بڑے چنار
کے درخت کی طرف گیا جو کچھ دیر پہلے طوفان نے زمین پر گرا دیا تھا جیسے
آفتاب پورا طلوع ہوا تو ایک شخص کے پاس گیا کہا باغ میں گری ہوی چنار کے درخت
فروخت کرونگا اس شخص نے قحت لگایا اور بہت کم روپیہ دیا ، اس روپیہ سے عازم
ہندوستان ہو گیا۔
تن تنہا خواد سالی میں اسوقت میرا عمر بارہ یا
چودہ کے درمیان ہوگا ۔ ہمارے گاؤں سے چند ميل تک موٹر میں جانا پڑتا ، جہاں
موٹرسفرختم ہوتا اس شہر کا نام گردیز ہے۔ گردیز سے تھوڑے دور جانے کے بعد دو
متوازی پہاڑوں کا سلسلہ شروع دونو پہاڑ قریب تقریبا ہندوستان کے سرحد کے طرف گیا
اور دونوں پہاڑوں کے پرشور بہتا ہوا ندی ہے جو بہت تیزی کے ساتھ پتھّروں سے ٹکراتا
ہوا چلتا ہے اس راستہ کو کورح بولتے ہیں ، پہاڑوں کے دامن میں پہاڑوں کےکمر میں
لوگ مٹّی اور پتھّرآن کے گھر بنا کر بستے ہیں اور انلوگوں کا زیادہ آمدنی ڈاکا زنی
سے ہوتا ہے۔
اس سلگلاخ وادی میں دو دن کا پیدل سفر
ہوتا ہے۔پہلے دن شام کے قریب پہاڑ کے دامن سے دھواں نکل رہا تھا اندازہ ہوا کہ یہ
کويئ گھر ہے ، رات بسر کرنے کیليۓ وہاں گیا اور دروازہ کے سامنے بیٹھ کر کسی کے
آنے کی انتظار کرنے لگا۔ تھوڑے دیر میں ایک عورت نکل کر آئي میرا گھر ،میرا نام
پوچھی پھر واپس آ کر ایک عدد جوار کی روٹی میرے ہاتھ میں دیکر کہی کچھ دور آگے چل
کر وہاں ایک گھر ملیگا یہاں تمہارے ليۓ خطرہ ہے۔ میں نے کہا کہ میں اور جا نہیں
سکتا یہیں رات رہ سکتا ہوں؟
خطرہ میرے لیۓ کچھ نہیں عورت گھبرائ
ہوئ تھی اور آگے چلنے لگی ، مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ، میں اسکے پیچھے
پیچھے چلنے لگا ایک میل دور جاکر کسی کا گھر کھٹکھٹایئ اور ایک تصد ریش بوڑھا نکل
آیا اور مجھے انکے سپرد کر چلی گیئ ۔ ایسا کیوں ہوا ؟ اور کیا خطرہ تھا ؟ اسکا ذکر
کرنا یہاں فضول ہے ۔
ایک بات یاد رکھیۓ وہ یہ کہ میں اپنے
سرگزشت بہت جلدی مکمّل کرنا چاہتا ہوں اور ناظرین کا مغزخوری بھی نہیں کرنا چاہتا
ہوں ۔ اسی لیۓ اھم واقعات لکھ رہا ہوں اگر تفصیل سے اپنے سرگزشت لکھوں تو شاید کیئ
مہینہ لگ جائیگا۔
اس گھر میں تصدریش بوڑھا نے مجھے ایک
چٹایئ دیا اور کھانے کو پوچھا میں نے کہا کہ اس بہن نے مبھے روٹی دیا ہے۔بو ڑھا نے
ایک بدنہ میں لسی دیا اسکو چبا نے لگا ۔ بوڑھا نے
گھر کا کرایا صرف ایک روپیہ لیکر
مجھے سونے کہکر چلا گیا۔صبح اٹھا نماز ادا کیا اور بوڑھا سے پھر چلنے کیاجازت
لیکرنکلا بوڑھا نے راستہ کے تمامن شب و فرازر
اور منزل مقصود سے مجھے واقف کردیا میں چلتے گیا بغیر کویئ ساتھی اور وہبر
خدا کے بھروسہ پر والد صاحب کا تمنّا دل میں لیۓ ہویۓ۔
ظہر کا نماز ہندوستان کی سرحد کے قریب
افغانی چوکی کے پاس بنے ایک چبوترہ میں پڑھا ۔ ایک سپاہی نے چند سرسری سوالات کیا
میں نے جواب دیا کم عمر سمجھکر قاغزات اور
پاسپورٹ بھی تلاش نہیں کیا اور مجھے جانے کی اجازت دےدی۔سرحد پارکرکےشام کے قریب
ہندوےتان کی چوٹی سے شہر میں پہنچا ، رات ہوٹل میں گزارا اور دوسرے دن قوت گی ایک
شہر ہے وہاں چلا آیا اس وقت میرے پاس جو رقم تھا وہ تقریب ختم ہو چکا صرف دس روپیہ
باقی رہا۔ دس روپیہ اور کلکتّہ کا صفرنا ممکن بات ہے ، پھر بھی میں نے ہمّت نہیں
ہارا اور نا معلوم طاقت مجھے امید اور آس دلاتا رہا جوانشا ہہ کہیں سے بھی خدا وند
کرم کرینگے۔ شام تک تو بے مقصد ادھر ادھر ٹہلتا رہا۔ آہستہ آہستہ دن کی روشنی رات
کے اندھیرے میں مٹتی جا رہے ہیں اور میرے دل کا دھڑکن بڑھتے جا رہا ہے۔ ایک ہوٹل
میں چند افغانی سامنے پڑے پنچوں بیٹھکر چاء نویشی کر رہے تھے اور آپس میں بات چیت
کر رہے تھے ، بھی وہاں جا کر چايۓ کا آڈر دے کر ایک طرف بیٹھ کر پینے لگا۔ اتنے
میں ایک افغانی آکر پوچھا کہ بچہ تم بھی تو افغانی معلوم ہوتے ہو ، کہاں سے آيۓ
اور کہاں جاتے ہو؟ میں نے کہا جی ہاں میں
غزنی کے قریب تاسنگ کا ہوں اور کلکتّہ جا رہا ہوں ۔ ایک نے کہا کیوں تجھے بھی دولت
کمانے کی لالچ ہندوستان کی طرف کھینچ لايئ؟ میں نے کہا جی نہیں میں اپنے والد صاحب سے ملنے کی ایک امید پر جا
رہا ہوں۔ "کیوں امید پر کیوں جا رہے
ہو؟ " میرے آنکھوں میں آنسو کے قطروں کو دیکھ کر ، "صاف صاف بتاؤ بچہ
کیا بات ہے؟" ، میں تمام واقعات سنانے کے بعد یہ بھی کہا کہ میرے پاس سفر خرچ
بھی نہیں ہے جو کچھ لایا تھا اب ختم ہو رہا ہے۔
وہ شخص شکل غ شاپت سے بہت ہی رحم دل
انسان معلوم ہو تا ہے اور خدا نے افغانی حسن تہزیب سے بھی آراستہ کیا ہے زبان کے
شايئشتہ گی بھی خدا نے انکو دیا تھا۔ پھر پوچھا
"تیرے والد صاحب کا اسم گرامی کیا ہے؟ اور کلکتّہ میں کہاں رہتے ہیں؟
" میں نے فورا جواب دیا " انکا نام سیّد محمّد ہے اورمانک پور میں رہتے
ہیں۔" اس شخص کے آنکھوں میں چمک سا
پیدا ہو گيا اور چہرے میں مسکراہٹ ، او ہو کر کے مجھ سے ہاتھ ملایا اور پھر چایۓ
اور ناشتہ منگواکر میرے اور قریب بیٹھ گیا اور کہا "میں تو تمہارے والد صاحب
کو پہچانتا ہوں اکثر ہمارے کوتی کلکتّہ شہر مییں آیا کرتے ہیں فکر مت کرو میں تمہے
پہنچا دونگا۔ تمہارا نام کیا ہے؟" یہ تمام باتیں ایک ہی سانس میں بولنے لگا ۔
میرا دل خوشی سے جھوم اٹھا اور میں نے کہا میرا نام نور محمّد ہے ، اس نے پھر مجھے
تسلّي دیا کہ فکر نہ کرو میرے خیال میں وہ زندہ ہیں کل ہم بھی اپنے لوگوں کو روپیہ
کا ٹیلیگراف کرینگے اور تمہارے والد صاحب کو بھی ٹیلیگراف کر دینگے ، رات میں نے
انلوگوں کے ساتھ بسر کیا ، صبح کچھ دیر ادھر ادھر ٹہلا پھر شام کو قیام گاہ کی طرف
آیۓ ۔ میری رات بڑی بیچینی سے گزری کیونکہ میں رات بھر یہ سوچ رہا تھا اگر والد
صاحب کی طرف سے تار کا جواب یا روپیہ نہیں آیا تو ضرور جو خبرمیں نے سنا ہے وہ سچ
ہے ۔ غم اور خوشی کی ملی جلی جزبات سے میرا دماغ ………….. ایک طرف خوشی تھا کہ ساتھی بھی ملا ھمدرد بھی جو مجھے میرے منزل
مقصود تک پہنچا دینگے ، دوسرے طرف یہ
سونچتا تھا کہ اگر روپیہ نہیں آیا تو کیا کرونگا؟
باب پنچم
منزل مقصود کی طرف
جن صاحب نے میرا مدد کیا ، لازم ہے کہ
انکا نام لیا کروں انکا نام تھا ونلی محمّدخان
اور انکے ساتھ اور بھی چار اشحاص تھے ، ولی محمّد اور مجھے لگا کر ہم سفر
ہم چھ آدمی تھے ۔ توتگی کے ایک سراۓ میں رات بڑے بیچینی سے بسر کیا ، رات بھر مجھے
نیند نہیں آئي ، بہت رات کو تھوڑے دیر کیليۓ آنکھ لگ گيئ مگر صبح سب سے پہلے میں
اٹھا وضو کرکے نماز پڑھا اور پھر کیئں سب
اٹھے نماز پڑھے اور جب دن کی روشنی نے رات
کے ڈراؤنے اندھیرے کو نگل دیا تو ہم سب ہوٹل کو آیۓ چاء ناشتہ کے بعد اس دکان کی
طرف چلے جسکے ٹھکانہ پر ہم لوگوں نے روپیہ اور تار کا جواب مانگے تھے بارہ بجے تک
ہم سب وہاں انتظار کرتے رہے تار آيا اور منی آڈر کا بنڈل کھولا ، ایک ایک کرکے سب
کو روپیہ ملا اور میرا کچھ بھی نہیں ، ایک بہ ایک میرے دل کا دہڑکن بڑھ گیا آنکھوں
میں آنسو کے قطرے دیکھکر ولی محمّد خان نے تسلّی دیا کہ فکر مت کرو نور محمّد شاید
تار نہیں ملا ہوگا ميں تمہیں اپنے خرچ سے پہنچا دونگا اور پھر مجھے بہت تسلّی دیا کہ روپیہ نہیں آنے سے
یہ مت سمجھنا کہ تمہارے والد کا انتقال ہوا ہوگا۔ بات دراسل یہ ہے کہ مانک ایک
جنگل ہے شہر سے دور ہے شاید ٹیلی گراف کا جواب دیر سے پہنچا ہوگا یا اب تک نہیں
پہنچا ہوگا ، خیر! مجھے بہت طریقہ سے تسلّی دے رہے اور انکے ساتھی سبھی مجھے تسلّی
دے رہے تھے۔
میراآدھا ٹکٹ کر دیۓ کیونکہ کیونکہ
میرا عمر بھی اتنا تھا اور شاید دو یا تین کے قریب ہم سب تیز رفتار گاڑی میں بیٹھ
گیۓ ۔ زندگی میں یہ پہلا اتفاق ہے کہ میں ریل گاڑی میں بیٹھا ہوں ، اس سے پہلے
کبھی دیکھا تک نہ تھا۔
گاڑی کا شاندار ابداعی گارڑ کے ہری
جھنڈی اور سامنے کی ہری جھنڈی ہوا میں جھوم رہی تھی میرے بے چين دل کے مانند اور
بڑے وقار کے ساتھ گاڑی چلنے لگی رفتار تیز ہوتے ہوتے گیا اور پھر ایسے چلنے لگا
جیسے یہ زمیں ،یہ راستے ، یہ پہاڑیں سب اپنا ہے
، بے پرواہ اپنی منزل کے طرف طوفان کے طرح دوڑ رہا تھا اور میرے دل کے
دھڑکن بھی اتنا تیز ہوتے جا رہا تھا اگر
چہ زندگی میں ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ندی نالے پہاڑ جنگل کو پیچھے چھوڑتے
ہويۓ آندھی اور طوفان کی طرح آگے بڑھتی چلی جارہی تھی۔ پھر بھی میرا دل چاہتا تھا
کہ اور بھی تیز ہونا چاہیۓ کہ جلد ازجلد مجھے پہنچادے۔
تقریبا تین دن تک زمیں کے سینے میں یہ
طوفان گاڑی چلتی رہی اور کیئ شہروں سٹسنوں کو پہنچتے چھوڑتے ہویۓ آگے بڑھ رہی تھی۔
تین دن بعد مسافروں میں ہلچل مچ گیا کوئ اپنے بستر باندھ رہے تھے ، کوئ اپنے بالوں
کو کنگھي کر رہے تھے ، کوئ اپنے کپڑے بھن رہے تھے ہمارے ساتھی بھی یہی کر رہے تھے
اور ولی محمّد نے مجھے کہا کہ اب کلکتّہ آگیا تھوڑے دیر میں ہم گاڑی چھوڑ دینگے
گاڑی کا رفتار امدھم ہوتے گیا۔ تھوڑے دیر میں بجلی کی قمقمون کا ایک سمندر سے ایسا
معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کے تمام تارے زمین ميں سجاديۓ گيۓ ہوں اور پھر ایک عضم
لشان شنس پر رکا یہیں کلکتّہ کا شنس ہوڑہ ہے ۔
شنس کو دیکھ کر عقل دنگ رہ گیا ۔
انسان کو بہتا ہوا سمندر اشارے کر رہا ہے
، ہم بھی چلتے ہويۓ گیٹ سے باہر نکلے ، باہر آکر سبز سرخ سفید قمقول میں
شہر ایک دولہن کی طرح معلوم ہوتا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام عیش اس شہر کے
با سندے کو اور خوبصورتی اور عظمت اس شہر کو عطاء کیا ہے ۔
انسان کے ٹھاٹتے ہویۓ اس سمندر میں
شہر کوہ نور نظر آتا تھا ، تھوڑے دیر کیليۓ میں سب کچھ بھول گیا ، اپنے مقصد ،
اپنے منزل ، اپنے غم تھوڑے دیر کیليۓ اس نور کے سمندر میں ڈوب گیا ۔
۔ نور محمّد غزنوی
۔ رسیدن بیی بیی
۔ اقبال خان
۔ کمال خان
۔ بلقس
۔ طاہرا خاتون
۔ نجمہ خاتون
۔ شیر خان
۔ ظاہر خان
۔ گل اندام خان
۔ سربلند خان
۔ بخملہ خان
۔ بخت بلند خان
۔ رخشندہ خان
۔ کنور دلشاد
۔ راجا مہدی
۔ شمرین خان
وفات
9 - 5 - 76
Sun day

No comments:
Post a Comment